السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک دکاندار کسی کو آلو کسی کو مکئی اس وقت اس شرط پر دیتا ہے کہ ہاڑی کے موقع پر یعنی گندم نئی آئے گی لےلوں گا یعنی جتنے آلویا مکئی دی ہے اتنی ہی گندم یا مکئی لے لوں گا کیا اس طرح کرنا جائز ہےجواب مد لل ہو ۔
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
آلو اور مکئی اموال سودیہ میں نہیں ہیں اس لئے ان کی بیع میں اختلاف ہے ایک گروہ محدثین صورت مرقو مہ کی بیع جائز کہتا ہے قیاس کرنے والے منع کرتے ہیں۔
(اہلحدیث امر تسر نمبر۱۳، ۲۴مارچ ۳۳ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 408
محدث فتویٰ