فهرس الكتاب

الصفحة 1239 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک بچے کے والدین فوت ہوگئے تو ہم نے اسے پالنا شروع کردیا۔اس کے چچا اور کچھ دیگر اہل خیر اسے کچھ پیسے بھی دے دیتے ہیں'ممکن ہے کہ اس کے یہ پیسے ہمارے مال میں بھی شامل ہوجاتے ہوں جب کہ ہم اسے جو دیتے ہیں وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے اور ہم اسے اپنے گھر کا ایک فرد سمجھتے ہیں۔اس سلسلہ میں آپ ہماری راہنمائی فرمائیں؟ جزاکم اللہ خیرًا

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یتیم کو جو صدقات ملتے ہیں'انہیں لینے میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ تم اس پر جو خرچ کرتے ہو'وہ اس (صدقات) کے برابر یا اس سے کم ہوں اور جو رقم تمہارے اخراجات سے زیادہ ہو تو اس کی حفاظت کرو اور اسے یتیم کے لیے محفوظ رکھو اور ہاں تمہارے لیے یہ خوشخبری ہے کہ یتیم کی تربیت اوراس سے حسن سلوک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں بے پناہ اجر وثواب سے نوازے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص377

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت