فهرس الكتاب

الصفحة 661 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

أحکام و مسائل ،ص: ۱۶۱ میں لکھا ہے کہ داڑھی رکھنا بڑھانا فرض ہے! فرض کا تارک کیا ہوگا؟ ص: ۳۸۹ میں لکھا ہے کہ داڑھی کٹوانا حرام ہے۔ (صوبیدار محمد رشید)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

آپ لکھتے ہیں: '' احکام و مسائل ص: ۱۶۱ میں لکھا ہے کہ داڑھی رکھنا بڑھانا فرض ہے۔ فرض کا تارک کیا ہوگا؟ '' فرض کا تارک مجرم اور گناہ گار ہوگا۔ پھر آپ لکھتے ہیں: '' ص: ۳۸۹ میں لکھا ہے کہ داڑھی کٹوانا حرام ہے۔ '' تو ٹھیک ہے داڑھی کٹوانا واقعی حرام ہے اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم (( اعفوا اللحی۔ ) )1 کی خلاف ورزی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی حرام ہوتی ہے الا کہ کوئی قرینہ صارفہ ہو اور وہ اس مقام پر نہیں۔ ۲۴، ۱۱، ۱۴۲۳ھ

1 بخاری،کتاب اللباس،باب اعفاء اللحیٰ۔ مسلم،کتاب الطہارۃ،باب خصائل الفطرۃ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 755

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت