فهرس الكتاب

الصفحة 1718 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید بیس روپے کا سوت خریدتا ہے۔ اور بکر کے ہاتھ ادھار اکیس روپے کابیچتا ہے۔اورروپیہ دینے کی کوئی مدت معین نہیں کرتا۔جب بکر مال یعنی کپڑا تیار کر کے فروخت کر لیتا ہے۔تو روپیہ خرید کا ادا کرتا ہے۔دوسری صورت زید مندرجہ بالا صورت کے مطابق سوت بکر کو دیتاہے۔اورساتھ ہی ساتھ کچھ ر وپیہ ادھار بھی دیتا ہے۔جب بکر مال تیار کر لیتا ہے۔تو تمام مال زید کے گھر دے آتا ہے۔زید اس کو فروخت کر کے اپنا تمام روپیہ لے لیتا ہے۔اور بقایا منافع بکر کو دے دیتا ہے۔آیا ان صورتوں میں بیع جائز ہے کہ نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صورت مرقومہ جائز ہے۔منع کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ مگر بحکم قرآن مجید مدت مقررہ کی تحریر ہونی چاہیے۔ لقولہ تعالی یَاـٰٓأَیُّہَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَایَنتُم بِدَیْنٍ إِلَیٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّی فَٱکْتُبُوہُ

(اہل حدیث جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 37 ) (فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ ۔395)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 114

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت