فهرس الكتاب

الصفحة 1231 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک آدمی نے کسی دوسرے شخص کو قرآن کریم کے حفظ کے مدرسہ پر خرچ کرنے کے لیے رقم دی اور اس شخص نے اور بھی مال جمع کیا اوراس سے ایک بڑی گاڑی خرید لی اور وہ کہتا ہے کہ یہ گاڑی مدرسہ کے لیے ہے لیکن اس نے اس کی اپنے نام پر رجسٹریشن کروالی ہے تواس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ مسئلہ تفصیل طلب ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس شخص کا اپنے نام پر گاڑی کی رجسٹریشن کرانا بہت بڑی غلطی اور مدرسہ تحفیظ قرآن کے ساتھ زیادتی ہے' کیونکہ اگر اس شخص اوراس مدرسہ میں اختلاف ہوجائے اور معاملہ عدالت تک چلاجائے تو عدالت توکاغذات دیکھ کر اسی کے حق میں فیصلہ کرے گی ' جس کے نام پر گاڑی کی رجسٹریشن ہوگی لہذا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ گاڑی یا کوئی اور چیز جو کسی ادارے کی ہو۔' اسے اپنا نام لکھوائے'الا یہ کہ وضاحت کر دی جائے کہ یہ گاڑی وغیرہ اس کی نہیں بلکہ ادارے کی ہے اور وہ محض اس ادارے کے سرپرست یا دلیل کی حیثیت سے اپنا نام لکھوارہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسے خرچ کرنے کے لیے جو مال دیا گیا ہے'اگر وہ مدرسہ کی عمومی ضروریات کے لیے ہے تو اس سے مدرسہ کے لیے گاڑی وغیرہ خریدی جاسکتی ہے اور اگر یہ مال اساتذہ اور طلبہ کے لیے خاص وتو پھر اسے ان کے علاوہ دیگر امور پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص327

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت