فهرس الكتاب

الصفحة 79 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں ایک ہسپتال میں کام کرتا ہوں اور میرے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ جس میں ہمیشہ عورتوں سے میل جول اور گفتگو ہوتی رہتی ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ اجنبی عورت سے خصوصًا رمضان میں مصافحہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اس ماحول سے دور ی اختیار کریں ، ایسی جگہ کام کریں جو مردوں کے ساتھ مخصوص ہو اور آپ کو اختلاط سے دور کر دے اور اگر ایسا مشکل ہو تو پھر عورتوں کو خواہ وہ ڈاکٹر ہی کیوں نہ ہوں مردوں کے اختلاط سے منع کریں خواہ وہ ان کے رفقاء کار ہی کیوں نہ ہوں نیز انتظامیہ سے کہہ کر بھی انہیں اختلاط سے روکا جاسکتا ہے اور اگر آپ کو اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر مقدور بھر کوشش کر کے اپنے آپ کو عورتوں کی طرف دیکھنے اور ان سے مصافحہ کرنے سے بچائیں کیونکہ عورتوں کی طرف دیکھنا اور ان سے مصافحہ کرنا حرام کے اسباب اور وسائل میں سے ہیں ، خواہ نیت صاف اور دل پاک ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص103

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت