فهرس الكتاب

الصفحة 1924 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں نےایک غیرمسلم سےاضطراری حالات میں اس شرط پرقرض لیاکہ میں اسےآزادکرنسی کی قیمت کےمساوی یعنی اپنےملک کی کرنسی کےعلاوہ کسی اورکرنسی میں سعودیہ اپنےکام کی جگہ پرواپس آکرلوٹاؤں گااورجب کچھ مدت بعدمیں سعودیہ واپس آیاتو آزادکرنسی کی قیمت میں بہت اضافہ ہوچکاتھاجس کےمعنی یہ ہیں کہ مجھےاصل قرض سےدوگنی رقم اداکرناپڑےگی توکیاآزادکرنسی میں قرض اداکرناجائزہے؟یامیں اس شخص کی طرف وہ اصل رقم ہی روانہ کروں جومیں نےبطورقرض لی تھی؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ قرض صحیح نہیں ہےکیونکہ یہ درحقیقت موجودہ کرنسی کی ایک دوسری کرنسی کےساتھ ادھاربیع ہےاوراس صورت میں یہ ایک سودی معاملہ ہےکیونکہ ایک کرنسی کی دوسری کرنسی کےساتھ صرف دست بدست بیع ہی جائزہےلہٰذاآپ اس شخص کی طرف صرف وہی رقم لوٹادیجئےجوآپ نےاس سےقرض لی تھی اوراس سودی معاملہ کےکرنےکی وجہ سےاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کیجئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص322

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت