فهرس الكتاب

الصفحة 1720 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر کسی شخص پرکسی کا کچھ روپیہ بطور قرض واجب ہو۔اور وہ شخص کا روپیہ قرض ہے۔مر گیا یا لاپتہ ہے۔کیا وہ شخص دیندار اس روپے کو خیرات کر دے تاکہ اس کا مواخذہ ہو یا کیا کرے کیونکہ قرض خواہ کے وارثوں کا بھی پتہ نہیں اور کافر کی طرف سے خیرات قبو ل نہ ہوگی۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

میرے خیال میں یہ نقطہ گری پڑی چیز کے حکم میں جس کی بابت حکم ہے۔کہ ایک سال تک مالک کا انتظار کرے۔ازاں بعد استعمال کر کے اصل مالک کا انتظار کرے۔ آئے تو دیدے ورنہ نیت ادا کی رکھے۔اور بس (18 ربیع الثانی س41ھ) (فتاوی ثنائیہ جلد2 صفحہ 405)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 115

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت