فهرس الكتاب

الصفحة 548 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر گھر والے سود کی کمائی کھاتے ہوں تو گھر کا کھانا ایک دو دن صحیح ہے۔ )شاہد سلیم لاہور (

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

قرآن مجید میں ہے: وَحَرَّمَ الرِّبٰوا]البقرۃ:۲۷۵ [اور اس نے سود کو حرام قرار دیا۔''] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ''دِرْھَمُ رِبًا یَأْکُلُہُ الرَّجُلَ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدَّ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ سِتَّۃٍ وَّ ثَلَاثِیْنَ زِیْنَۃً''سود کا ایک درہم جس کو کوئی آدمی کھاتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے چھتیس (۳۶) مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔'']اب آپ خود غور فرما لیں ایک دو دن کیا؟ ایک دفعہ کیا؟ ایک لقمہ بلکہ آدھا لقمہ کھانا بھی کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ واللہ اعلم ۲۴،۶،۱۴۲۳ھ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 669

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت