فهرس الكتاب

الصفحة 1676 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے بکر کی گائے چُرالی۔اور کسی دوسرے گائوں میں لے جا کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرلی۔اس وقت بکر بھی چور کو تلاش کرتا ہوا آگیا۔جس وقت بکر آیا اس وقت گاؤں کے لوگوں نے اس کو بتا دیا کہ زید نے تیری گائے چرا کر یہاں لا کر زبح کر ڈالی ہے۔جھٹ بکر زید کو جاکر پکڑ لیا۔ابھی تک گائے کا گوشت پڑا فروخت ہورہا تھا۔جب بکر آیا زید نے چوری کا اقرار کر لیا۔اور بکر کو قیمت دے کر خوش کرلیا۔آیا اب یہ گائے مسلمانوں کو کھانی حلا ل ہے یا حرام اور زبح کا کیا حکم ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

گوشت کی حرمت مالک کی حق تلفی کی وجہ سے تھی۔جب اس نے اپنا حق لے لیا تو اب گوشت حلال ہے۔مگرذبح کا فعل کیونکہ ایسے وقت میں ہوا ہے۔جس وقت گائے مسروقہ تھی۔اور اس سے متعلق تھا۔اس لئے ذبح گناہگار ہے۔اس کو توبہ نصوح کرنی چاہیے۔ (فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 440)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 94

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت