فهرس الكتاب

الصفحة 1399 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا یہ بات صحیح ہے کہ چھری سے ذبح کرنے کے بعد جو ذبیحہ (جانور) حرکت نہ کرے اسے کھانا حلال نہیں' کیونکہ وہ مردہ شمار ہوگا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب جانور بیمار اور قریب المرگ ہو اور اس حال میں اسے ذبح کر لیا جائے اور گردن کاٹتے وقت اس کا کوئی بھی عفو حتیٰ کہ دم بھی نہ ہلے تو وہ مردہ تصور ہوگا۔ جو جانور بیمار نہ ہو تو وہ عمومًا ذبح کے وقت ضرور حرکت کرتا اور تڑپتا ہے' ہاں البتہ ذبح کر چکنے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ وہ حرکت کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سر جلدی کاٹ لینے کی وجہ سے وہ جلدی مر گیا ہو' لہٰذا اسے کھانا حلال ہوگا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص475

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت