فهرس الكتاب

الصفحة 1052 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بینک میں کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں شریعت اور علماء کرام کیا امر فرماتے ہیں وضاحت سے آگاہ کرنا۔ عنداللہ ماجور ہونا۔ (محمد بشیر الطیب ،کویت )

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

واضح رہے کہ سودی بینکوں میں کرنٹ اکاونٹ والے سودی کاروبار میں بینک کے معاون ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: [وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ[المائدۃ:۲] [''نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔''] گناہ کے کام میں تعاون بھی حرام، ممنوع اور گناہ ہے ۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 496

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت