فهرس الكتاب

الصفحة 1951 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا گورنمنٹ ملازم کی آمدنی حلال نہیں؟ اب گورنمنٹ ملازمین کو ادائیگی بینک کے زریعے کرتی ہے۔میں نے سنا ہے کہ یہ آمدنی صحیح نہیں کیونکہ بینک میں سودی کاروبار ہوتا ہے جب کہ میرا خیال ہے کہ جو انسان محنت سے کام کرکے تنخواہ وصول کرے اس کی آمدنی حلال ہوگی؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

گورنمنٹ ملازم حکومت سے اپنا استحقاق وصول کرے چاہے وہ بزریعہ بینک کیوں نہ ہو۔ جلیل القدر صحابی حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مختار ثقفی جیسے حرام خور کے تحفے تحائف قبول کرلیتے تھے۔اس بنا پرکہ مسلمانوں کے بیت المال میں ان کا بھی حق ہے۔اسی طرح ایک ملازم بھی حکومت سے حق خد مت بطریق اولیٰ وصول کرسکتا ہے مجرم وہ لوگ ہیں۔ جو سودی معاملات میں ملوث ہیں اور اس کی ترویج وترقی کے لئے کوشاں ہیں۔اعاذناللہ منہ

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص563

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت