فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کسی عورت نے قسم اٹھائی اور پھر اس قسم کو کچھ وجوہات کی بنا پر توڑ دیا اب انتہائی مصروف زندگی میں ساٹھ مسکینوں کو اکٹھاا کرنا انتہائی مشکل ہے اور دو مہینے کے مسلسل روزے بھی نہیں رکھ سکتی تو کیا قسم کا کفارہ پیسوں کی شکل میں ادا کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ پیسے جہاد فنڈ میں بھیج سکتی ہے؟ (ایک مسلمان بہن)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

آپ نے سوال میں جو ساٹھ مسکینوں کا کھانا اور دو مہینوں کے روزوں کا کفارہ قرار دیا ہے وہ قسم کا کفارہ نہیں بلکہ ظہار کا ہے اور روزہ کی حالت میں بیوی سے مجامعت کا کفارہ ہے۔ قسم کا کفارہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة المائدہ کی آیت۸۹ میں ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللَّـہُ بِاللَّغْوِ فِی أَیْمَانِکُمْ وَلَـٰکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَیْمَانَ ۖ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاکِینَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلَاثَةِ أَیَّامٍ ۚ ذَٰلِکَ کَفَّارَةُ أَیْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ... 89} ...المائدة

''اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا اور البتہ ان قسموں پر پکڑ ہو گی جو تم نے ارادةًکھائی ہوں گی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلا دے جو اپنے اہل و عیال کو کھلانا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے یا ایک غلام آزاد کر دے اور جو ان میں سے کسی بھی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم (قصدا) قسم کھاؤ (پھر اس کو توڑ دو) ۔''

کفارہ میں صرف وہی اشیاء ادا کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں نصًا ذکر کی ہیں۔ پیسوں کا چونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کیا اس لئے قیمت پیسوں کی صورت میں ادا کرنا درست نہ ہو گا۔ ابنِ قدامہ فرماتے ہیں:

(( لا یجزئ فی الکفارة إخراج قیمة الطعام فی قول إمامنا زمالک و الشافعی و غیرہم . ) )

''قسم کے کفارہ میں قیمت ادا کرنا امام احمد، مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔'' (المغنی ج۱۱، ص۲۶۵)

بعض فقہاء نے جواز کا بھی فتویٰ دیا ہے لیکن ان کا استدلال انتہائی کمزور ہے۔ کفارہ کا مصرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دس مساکین ذکر کئے ہیں کفارہ کا مصرف جہاد فنڈ نہیں ہے (کیونکہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے اسے کفارہ کا مصرف قرار دیا ہے نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت