فهرس الكتاب

الصفحة 877 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

تصویر کے بارے میں کیا حکم ہے ؟اس کے بارے میں کیااحادیث آئی ہیں؟ کیا سایہ دار اور غیر سایہ دار تصویروں میں کوئی فرق ہے؟ اس سلسلہ میں علمائے کرام کا راجح قول کیا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کسی زندہ اور اپنے ارادے سے حرکت کرنے والے جاندار مثلًا انسان"حیوان اور پرندے وغیرہ کی صورت میں بنانے کے عمل کو تصویر بنانا کہتے ہیں اور اس کے بارے میں حکم شریعت یہ ہے کہ یہ حرام ہے اور اس کی دلیل وہ بہت سی احادیث ہیں 'جو اس کے بارے میں وارد ہیں مثلًا صحیحین میں حضرت ان مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"

(ان اشد الناس عذابًا یوم القیامة عذابًا یوم القیامة المصورون ) ) (صحیح البخاری 'اللباس'باب عذاب المصورین یوم القیامة' ح: وصحیح مسلم 'اللباس والزینة ّباب تحریم تصویر صورة الحیوان___الخ'ح: 21-9 واللفظ لہ)

بے شک روز قیامت سب سے زیادہ سخت عذاب مصوروں کو ہوگا۔""

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(ان الذین یصنعون ہذہ الصور یعذبون یوم القیامة'یقال لہم:احیوا ماخلقتم ) (صحیح البخاری 'اللباس 'باب عذاب المصورین یوم القیامة ' ح:5951 وصحیح مسلم 'اللباس والزینة باب تحریم تصویر صورة الحیوانالخ' ح: 21-7)

"جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں'یقینًا انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تم نے جن کو پیدا کیا تھا اب انہیں زندہ کرو ۔"

صحیحین ہی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( من صور صورة فی الدنیا کلف یوم القیامة ان ینفع فیہا الروح ولیس بنافع ) (صحیح البخاری 'اللباس 'باب من صورة کلف یوم القیامة___الخ' ح: 5963 وصحیح مسلم 'اللباس وازینة 'باب تحریم تصویر صورة الحیوانالخ ' ح:211-)

جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی تو اسے قیامت کے دن یہ حکم دیاجائے گا کہ وہ اس روح بھی پھونکے حالانکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔""

امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( کل مصور فی النار ّیجعل لہ 'بکل صورة صورہا 'نفسا فتعذبہ فی جہنم ) ) (صحیح مسلم 'اللباس الزینة 'باب تحریم تصویر صؤرہ الحیوان الخ'ح:211-)

"ہر مصور جہنم میں جائے گا'ہر تصویر کے عوض جو اس نے بنائی اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک نفس بنادے گا جس کے ساتھ اسے جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔"

حضرت ابو طلحہٰ سے مرفوع روایت ہے:

(لاتدخل الملائکة بیتًا فیہ کلب ولا تماثیل ) (صحیح مسلم 'اللباس والزینة 'باب تحریم تصویر صورة الحیوان ___الخ' ح: 21-6)

فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویریں ہوں۔""

یہ اور اس مضمون کی دیگر احادیث عام اور ہر تصویر کے بارے میں ہیں خواہ اس کا سایہ ہو یا سایہ نہ ہو یعنی خواہ ان کا جسم ہو یا انہیں دیوار یا کاغذ یا کپڑے وغیرہ پر منقش کرلیا گیا ہو۔حدیث سے ثابت ے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تواس میں تصویریں بھی تھیں 'آپ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور پانی کے ساتھ تصویروں کو مٹانا شروع کردیا اور فرمایا:

(قاتل اللہ قومًا یصورونمالا یخلقون ) (مسند ابی داود الطیالسی ' ص:87' ح: 623 والمعجم الکبیر للطبرانی:1/167' ح:4-7)

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تباہ وبرباد کردے جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں' جنہیں وہ پیدا نہیں کرسکتے۔""

البتہ اس دور میں کرنسی نوٹ جن پر بادشاہوں کی تصویریں ہوتی ہیں اور اسی طرح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وغیرہ جن کے پاس رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اس سے مستثنیٰ ہیں۔لیکن ان کی اجازت بھی صرف بقدر حاجت وضرورت ہی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص380

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت