السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
زید کپڑے کی تجارت کرتا ہے اور خصوصًا اس کے خریدار اسنتال اور پہاڑیئے ہیں یہ لوگ گا ہے بگا ہے شراب پی کر زید مذکور کی دوکان پر آتے ہیں جس کے باعث زید کو سخت نفرت وکراہمت ہوتی ہے لہذا ایسے لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کرنا تقوی کے خلاف ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
ایسے لوگوں سے خرید وفروخت جائز ہے ہاں نرمی سے نصیحت کرتا رہے قرآن مجید میں ارشاد ہے ، وَمَا عَلَی ٱلَّذِینَ یَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْءٍ وَلَـٰکِن ذِکْرَیٰ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ.
(۱۹ربیع الاول ۵۷ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 430