فهرس الكتاب

الصفحة 1789 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے کہا بعد تعمیر مکان دعوت ضروری ہے ورنہ نقصان یا کسی آفت کا اندیشہ ہے بکر برخلاف ہے اور ایسی دعوت کو ریا کاری کی غرض بتلاتا ہے فقراء کا ایسی دعوت میں حصہ نہیں ہوتا صحت پر کون ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

۔ قاضی شوکانی نے بیل الاوطار میں سلف کا قول لکھا ہے کہ تعمیر مکان کا بھی ولیمہ مستحب ہےریا کار کو تو ہرجگہ دخل ہے اور ہر جگہ معیوب ہے۔واللہ اعلم ( 23 دسمبر 1932) (فتاوی ثنایئہ جلد 2 ص 407(

تو ضیح

مشکواۃ شریف میں حدیث ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی مثال مکان نوکے ساتھ بیان فرمائی ہے۔جیسا کہ ایک سردار نے ایک مکان تیار کیااو پھر اس میں دعوت کی اور اپنا ایک ایلچی لوگوں کو دعوت کی طرف بلانے کیلئے بھیجا کہ ہر شخص کو دعوت کی طرف بلاؤ جو شخص اُس ایلچی کے بلانے پر دعوت کی طرف آگیا اس نے کھانا کھایا اور جو نہ آیا وہ محروم رہا۔

اللہ تعالیٰ کا دین بمثل طعام ہے اللہ تعالیٰ دعوت کرنے والا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم داعی الی الطعام ہے۔جو آپ کے بلانے پر آگیاوہ دعوت کھاگیا اگر نئی مکان کی دعوت ناجائز ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثال بیان نہ فرماتے۔فافہم و تقدیر(سعیدی(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 207

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت