فهرس الكتاب

الصفحة 1690 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جس چیز کا نرخ زمانہ گزشتہ میں ارزا ں تھا۔اور اب وہ موجودہ زمانے میں نرخ گراں ہے تو کیا مشتری کو یہ حق شرعًا حاصل ہے۔کہ بائع کو مجبور کرے کہ بموجب نرخ زمانہ گزشتہ ارزاں فروخت کرو۔اگر بائع اس کو نامنظور کرے۔تو اس کو ہر طرح سے ضرر پہنچانے کی کوشش کریں گے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حدیث شریف میں آیا ہے۔کہ صحابہ کرام نے عرض کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ نرخ مقرر کردیں۔لوگ کم و بیش دیتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!میں کسی پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔اللہ کے اختیار میں ہے۔گزشتہ بھاؤپر بیچنے کےلیے نہ کوئی مجبور کر سکتا ہے۔نہ ہو سکتا ہے۔جو کرے وہ بموجب حدیث سراسر ظلم ہے۔

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 439)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 98

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت