فهرس الكتاب

الصفحة 248 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

داڑھی منڈوانے کے بارےمیں کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

"أَعْفُوا اللِّحَی، وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ" (مسند احمد 52-2)

''داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ۔''

اور آپ نے مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کو اس امور میں سے شمار کیا ہے ، جن کا تعلق فطرت سے ہے ۔ خود نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک بھی گھنی تھی اور اللہ تعالی نے ذکر فرمایا ہے کہ حضرت ہارون ﷤ نے حضرت موسی ﷤ سے کہا تھا:

{قالَ یَبنَؤُمَّ لا تَأخُذ بِلِحیَتی وَلا بِرَ‌أسی... 94} ... سورةطہ

''بھائی میری داڑھی اور سر ( کے بالوں ) کو نہ پکڑئیے ۔''

داڑھی سےمراد وہ بال ہیں ، جو دونوں جبڑوں اورٹھوڑی پر اگتے ہیں ۔ دونوں جبڑوں سے مراد نیچے کے دانتوں کے اگنے کی جگہ ہے اور ٹھوڑی اس جگہ کو کہتے ہیں ، جہاں جونوں جبڑے مل جاتے ہیں ۔ تو داڑھی کے بارے میں یہ صحیح احکام موجود ہیں ، تو ہر مسلما ن کے لیے یہ واجب ہے کہ وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے اور اطاعت اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ احکام کی پیروی کی جائے ۔ جو شخص داڑھی کو منڈواتا ہے تو نبی ﷺ کےان ارشادات ''اعفواللحی ، اوفوا اللحی ، وفروا اللحی اور ارخوا اللحی '' جن میں داڑھی بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے ، کی مخالفت کرتا ہے ۔ داڑھی منڈوانے یا کٹوانے والے کی اطعت رسولﷺ میں خلل ہے اور وہ معصیت میں مبتلا ہے لہذا اسے توبہ ارو ندامت کا اظہار کرنا چاہیے اور جو شخص توبہ کرے ، اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرمالیتا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص438

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت