فهرس الكتاب

الصفحة 2002 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جس شخص کے پاس کچھ سرمایہ ہو اور وہ حفاظت کے نقطہ نظر سے کسی بینک میں بطور امانت رکھ دے اور ہر سال اس کی زکوٰۃ بھی ادا کرے تو یہ جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

سودی بینکوں میں اپنا سرمایہ رکھنا جائز نہیں خواہ سود نہ بھی لے کیونکہ اس میں گناہ اور ظلم کی باتوں میں تعاون ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر کوئی شخص مجبور ہو جائے اور سودی بینکوں کے سوا اس کے پاس اپنے سرمایہ کی حفاظت کے لیے کوئی اور جگہ نہ ہو تو پھر نظریہ ضرروت کے پیش نظر اس میں ان شاءاللہ کوئی حرج نہ ہو گا، کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَقَد فَصَّلَ لَکُم ما حَرَّ‌مَ عَلَیکُم إِلّا مَا اضطُرِ‌ر‌تُم إِلَیہِ...119} ... سورة الانعام

"اور جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھہرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ناچار ہو جاؤ۔"

اور اگر کوئی اسلامی بینک موجود ہو یا کوئی ایسی جگہ جہاں اپنا مال بطور امانت رکھنے میں گناہ اور ظلم کی باتوں میں تعاون نہ ہو تو پھر سودی بینک میں سرمایہ رکھنا جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص515

فتوی کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت