فهرس الكتاب

الصفحة 586 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا کسی گھر یا بلڈنگ کے مالک کےلیے یہ جائز ہے کہ وہ ہر قسم کے پانی کی نکاسی کےلیے ایک سیوریج سسٹم بنائے کہ کھانے کے برتنوں کو دھونے کے بعد کا پانی اور کھانا کھانے کے بعد ہاتھوں کے دھونے کا پانی بھی اسی میں جائے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

برتنوں کے دھونے' کھانا کھانے کے بعد ہاتھوں کے دھونے کے پانی اور دیگر اشیاء کے پانی کی نکاسی کےلیے ایک ہی سسٹم بنانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ برتنوں اور ہاتھوں کو لگنے والی چکناہٹ کھانا نہیں ہے لیکن روٹی' گوشت اور دیگر کھانوں کے ٹکڑوں کو نالیوں میں گراناجائز نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ یہ ضرورت مندوں کو دے دیے جائیں یا انہیں کسی کھلی جگہ پر رکھ دیا جائے تاکہ رزق کی بے حرمتی نہ ہو اور جو شخص جانوروں یا پرندوں وغیرہ کو کھلانا چاہے وہ انہیں لے لے۔

کھانے کے ٹکڑوں کو کوڑا کرکٹ یا گندی جگہوں یا راستہ میں پھینکنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے کھانے کی بے حرمتی ہے اور راستہ میں پھینکنے کی صورت میں چلنے والوں کےلیے تکلیف بھی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص503

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت