فهرس الكتاب

الصفحة 1944 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا بینکوں کے ملازمین خصوصًاعربی بینک کے ملازمین کی تنخواہیں حلال ہیں یا حرام؟ میں نے سنا ہے کہ یہ حرام ہیں کیونکہ بینک اپنے بعض معاملات میں سودی لین دین کرتے ہیں، میں چونکہ ایک بینک میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس لیے امید ہے رہنمائی فرمائیں گے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

سودی بینکوں کی ملازمت جائز نہیں ہے کیونکہ یہ گناہ اور ظلم کی باتوں میں اعانت ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَتَعاوَنوا عَلَی البِرِّ‌ وَالتَّقویٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَی الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ...2} ... سورة المائدة

"اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں تم سیک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔"

اور صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور دونوں گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا:

(ہم سواء) (صحیح مسلم' المساقاة' باب لعن آکل الربا ومؤکلہ' ح: 1598)

"یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص523

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت