السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک شخص خود مسلمان ہے اور اس نے کارندہ منشی اہل ہنود کا رکھا ہے ملازم کہ تم روپیہ سود پر دے کر سود لو اور وہ شخص مسلمان اپنے آپ کو مستثنٰی رکھتا ہے بروئے شریعت کیا حکم ہے ؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
کسی نا جائز کام پر ملازم رکھنے سے گناہ سے نہیں بچ سکے گا ، کام تو اسی کا ہے ، یہ محض فریب ہے خدانیات پر مطلع ہے ،
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 474
محدث فتویٰ