فهرس الكتاب

الصفحة 1745 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

یہاں ساہوکار اور تجارت پیشہ ہندو مسلمان ہیں ان میں یہ رواج ہے کہ پارچہ ہو یا کریانہ یا غلہ وغیرہ ہو فی بتلاد ہر پاؤ آلہ یا فی سینکڑہ ایک آنہ لیا کرتے ہیں۔کہیں دو آنہ لیا کرتے ہیں۔کہیں دو آنے لیتے ہیں مختلف قسم ساہو کار دیول وغیرہ اور مسلمان خیرات وغیرہ و مساجد میں صرف کرتے ہیں۔اگر نہ دین تو خریدوفروخت میں بحث ہوتی ہے۔اور سودا ٹوٹ جاتا ہے۔ایسی صورت میں لینا دینا گناہ ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ایسے معاملات کے متعلق عام اصول آیا ہے۔حدیث

جو شرط ہے جو بائع اور مشتری دونوں کو معلوم ہے۔لہذا جائز ہے۔ (اہلحدیث 23 زی الحجہ 1337ھ) (فتاوی ثنائییہ جلد 2 ص391)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 135

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت