فهرس الكتاب

الصفحة 63 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا خاوند کے بھائیوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی بھابی سے خلوت کے بغیر مصافحہ کریں جبکہ بہنیں اور والدین بھی موجود ہوں، جیسا کہ عمومًا عید وغیرہ کے موقع پر ہوتا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

خاوند کے بھائی یا چچا یا ماموں یا چچا زاد بھائی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی یا ماموں یا چچا کی بیوی سے مصافحہ کرے جس طرح دیگر تمام اجنبی عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز نہیں، ان سے بھی جائز نہیں کیونکہ بھائی اپنی بھابی کے لئے محرم نہیں ہے، اسی طرح چچا اپنے بھتیجے کی بیوی، ماموں اپنے بھانجے کی بیوی اور چچا زاد بھائی اپنے چچازاد بھائیوں کی بیویوں کے لئے محرم نہیں ہیں لہٰذا ان سے مصافحہ جائز نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( إنی لاأصافح النساء ) ) ( سنن ابن ماجہ )

''میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔''

اور حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:

(( واللہ مامست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امرأة قط أنہ یبایعہن بالکلام ) ) ( صحیح البخاری)

'' اللہ کی قسم! رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی (غیر محرم) عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا تھا، آپ عورتوں سے زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔''

اجنبی عورتوں سے مصافحہ کرنا ان کی طرف دیکھنے کی طرح فتنے کا ذریعہ ہے ، بلکہ اس میں تو دیکھنے سے بھی زیادہ فتنہ ہے، البتہ محرم عورتوں مثلًا بہن، پھوپھی ، ماں یا بہو سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص87

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت