فهرس الكتاب

الصفحة 1739 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آج سلامی کا رواج عام ہے مکان کا مالک کرایہ داروں سے ہزاردو ہزارروپے پہلے وصول کر لیتا ہے۔اور بعد میں ستر اسی روپے ماہوار کرایہ مکان دیتا ہے۔جو روپے سلامی کے طور پر پہلے وصول کر لیتا ہے۔اس کا کرایہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سلامی کا روپیہ شرعًا جائز ہے یانہیں؟ (عبد الحکم قصوری جامع اہل حدیث رنگون)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اس قسم کا سود ناجائز ہے کیونکہ یہ رشو ت کے حکم میں آتا ہے۔

(فتاوی ثنایئہ جلد2 ص 456)

توضیح البیان ۔

عرف عام میں آجکل اس کو پگڑی کہتے ہیں۔جو جانائز ہے۔(سعیدی(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 132

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت