فهرس الكتاب

الصفحة 630 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آج کل ملاحظہ کیا جا رہا ہے کہ بہت سے نوجوانوں میں کھیلوں کے ان مقابلوں میں حصہ لینے کی استعداد موجود ہے جو کسی تنظیم کے زیر اہتمام منعقد ہوتے ہیں اور اس میں ہر ٹیم کو ایک معین مال کی صورت میں اپنا حصہ بھی ڈالنا پڑتا ہے اور ایک ٹیم اس سلسلہ میں کچھ ادا نہیں کرتی کیونکہ وہی کھیلوں کو منعقد کرتی اور ٹرافیاں اور انعامات کی چیزیں خریدنے کا اہتما م کرتی ہے اورباقی ٹیمیں ان انعاما ت کے حصول کے لیے کھیلتی ہیں اور جو ٹیم کامیاب ہو جائے ، وہ ٹرافیاں حاصل کرلیتی ہے ، جب کہ باقی انعامات دیگر ٹیموں میں تقسیم کردیے جاتے ہیں تو اس سلسلہ میں راہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا ۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر انعام کسی ایسے شخص کی طرف سے دیا جائے جو مقابلہ میں باقاعدہ شریک نہ ہو ۔ مثلًا انعام کوئی ایسا شخص دے جو مقابلہ کرنے والوں میں شامل نہ ہو لیکن وہ کامیاب ہونے والی ٹیم کو اپنی طرف سے کچھ مال بطور انعام دے دے تو یہ اس جوے میں شامل نہیں ہے جو حرام ہے لیکن انعام اگر مقابلہ میں حصہ لینے والی دونوں ٹیموں کی طرف سے ہو کہاہر ٹیم کچھ اہم ادا کرے او رپھر ان دونوں ٹیموں کی کی طرف سے جمع کی گئی رقم اس ٹیم کو دی جائے جو مقابلہ جیت لے تو یہ جو ہے اور حرام ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے:

{یـٰأَیُّہَا الَّذینَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَیسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّیطـٰنِ فَاجتَنِبوہُ لَعَلَّکُم تُفلِحونَ 90} ... سورةالمائدة

''اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت او رپانسے ( یہ سب ) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں ، سو ان سے بچتے رہنا تاکہ تم نجات پاؤ ۔''

اسی طرح اگر ٹیمیں تین یا اس سے بھی زیادہ ہوں اور ان میں سے دو ٹیمیں تو ادا کریں اورتیسری ٹیم ادا نہ کرے اور انعام جیتنےوالی ٹیم لے لے تو یہ بھی حرام ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:

«لَا سَبَقَ إِلَّا فِی خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ، أَوْ نَصْلٍ»

(سنن ابی داؤد ،الجہاد ، باب فی السبق ،ح: 2574 وجامع الترمذی:الجہاد ،باب ماجاء فی الرہان والسبق، ح:1700 وسنن النسائی ، الخیل ،باب السبق ح 3616 واللفظ لہما)

''مقابلہ صرف تیر اندازی یا اونٹ یا گھوڑے دوڑانے میں ہے ۔''

(حدیث میں ) مذکور لفظ ''نصل '' کے معنی تیر اندازی میں مقبلہ ،''خف '' کے معنی اونٹوں میں مقابلہ اور ''حافر '' کے معنی گھوڑوں میں مقابلہ کے ہیں اور ''سبق '' سے مراد وہ مجہول انعام ہے جو سبقت کرنے والے کو دیا جاتا ہے ۔ اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ اس طرح کامقابلہ صرف ان تینوں ہی میں جائز ہے کیونکہ ان کاتعالق جہاد فی سبیل اللہ سے ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص455

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت