فهرس الكتاب

الصفحة 1391 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا اس شخص کا ذبیحہ کھایا جا سکتا ہے جس کا عقیدہ معلوم نہ ہو اور جو گناہوں کا ارتکاب کرتا ہو اور اسے معلوم بھی ہو کہ یہ حرام ہیں اور جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ قصد و ارادہ کے بغیر جن کو پکارتا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر وہ شرک نہ کرتا ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو اور گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نہ اس کے بارے میں کوئی اور ایسی بات معلوم ہو جس سے کفر لازم آتا ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے۔ ہاں البتہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے شرک کا ارتکاب کیا ہے مثلًا یہ کہ کسی جن کو پکارا ہے یا مردوں سے دعا اور استغاثہ کیا ہے تو یہ شرک اکبر ہے' اس کے مرتکب انسان کا ذبیحہ نہیں کھایا جائیگا۔ جنوں کو پکارنے کی مثال یہ ہے کہ ان سے کہے کہ یہ کام کرو یا یہ کام نہ کرو یا مجھے یہ دو یا فلاں شخص کے ساتھ یہ کرو' اس طرح جو شخص قبروں میں مدفون لوگوں یا فرشتوں کو پکارے' ان سے استغاثہ کرے یا ان کیلئے نذر مانے تو یہ سب شرک اکبر ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے محفوظ رکھے۔

گناہوں کے ارتکاب سے ذبیحہ کھانا حرام نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ انہیں حلال نہ سمجھے بلکہ انہیں حرام ہی سمجھے اور پھر اس نے جانورکو شرعی طریقے سے ذبح کیا ہو اور جو شخص گناہوں کو حلال سمجھے تو وہ کافر شمار ہوگا۔ مثلًا: اگر کوئی شخص زنا یا شراب یا سود یا والدین کی نارمانی یا جھوٹی گواہی وغیرہ ایسے گناہوں کو حلال سمجھے' جن کی حرمت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے تو وہ کافر ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر اس کام سے بچائے جو اسے ناراض کرنے کا سبب نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص457

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت