فهرس الكتاب

الصفحة 613 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر کھانے میں مکھی گر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر کسی آدمی کے کھانے میں مکھی گر کر مر جائے تو وہ اسے پورا ڈبو کر نکال دے اور کھانا کھا لے۔ اس کے کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور اس پروہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إِذَا وَقَعَ الذُّبَابٌ فِی إِنَاءِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْمِسْہُ، فَإِنَّ فِی أَحَدِ جَنَاحَیْہِ دَاءً، وَفِی الْآخَرِ شِفَاءً. ) )

''جب کسی آدمی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو وہ اسے ڈبو کر نکال دے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے۔'' (بخاری)

لہٰذا اگر کسی آدمی کے کھانے یا پینے والی اشیاء میں مکھی گر جائے تو اس کی مثل اور کوئی چیز گرے تو اس کو نکال کر استعمال لانے میں کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت