فهرس الكتاب

الصفحة 1740 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

حکومت نے جو انعامی بانڈز نکالے ہیں۔ان کی شرع حیثیت کیا ہے۔آیا اس کے اندر سود کی بھی کوئی شکل ہے۔یانہیں جبکہ یہ اعلان ہے۔کہ ہم نے جو یہ سکیم نکالی ہے۔سود سے بچنے کےلیے لیے ہی نکالی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ ایک دس روپے والا بونڈ خرید لیجئے۔ اور تین مہینے بعد اس بونڈ کو قرعہ اندازی میں شامل کر لیتے ہیں۔اگر اس کا انعام نکل آیا تو اس کےروپے قائم ہیں اور اگر نہ نکلا تو پھر بھی قائم ہیں۔اور جس وقت چاہے تو بھنا سکتے ہیں۔شریعت محمدی میں کیا حکم ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صورت مسئولہ میں واضح ہو یہ سب جوئے کی قسمیں ہیں۔ان سے بچنا ہی بہتر ہوتا ہے بینک کا کاروبار سود پر ہوتا ہے۔اس لئے بھی یہ بونڈ مشکوک ہو جائیں گے۔لہذا پرہیز لازم ہے۔(عبد الغفار سلفی۔نائب مفتی محمدی مسجد کراچی(

)فتاوی ستاریہ جلد 1 ص 7۔8(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 132

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت