فهرس الكتاب

الصفحة 454 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں نے ایک لڑکی سے شادی کی ہے جس کی تین چھوٹی بہنیں بھی ہیں اور میں اپنے خسر کے کام میں مدد دینے کے لئے اس کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہوں لیکن اس میں بڑی مشکل یہ ہے کہ کھانے پینے وغیرہ کے لئے ہم سب جب اکٹھے ہوتے ہیں تو میری بیوی کی بہنوں نے اپنے سروں کو تو ڈھانپا ہوتا ہے لیکن ان کے چہرے کھلے ہوتے ہیں اور مجھے کبھی کبھی ان میں سے کسی کو گاڑی میں بٹھا کر مدرسہ یا کالج یا لائبریری وغیرہ میں بھی پہنچانا پڑتا ہے تو اس کے بارے میں حکم شریعت کیا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

خسر کے ساتھ مذکورہ سبب یعنی اجرت لے کر کام میں مدد د ینے یا کسی اور مباح سبب کی وجہ سے رہائش اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن آپ کی بیوی کی بہنوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ آپ سے پردہ کریں اور منہ کو بھی ڈھانپیں کیونکہ زیادہ زینت تو چہرے ہی میں ہے، سورہ نور میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَلا یُبدینَ زینَتَہُنَّ إِلّا لِبُعولَتِہِنَّ أَو ءابائِہِنَّ أَو ءاباءِ بُعولَتِہِنَّ...31} ... سورة النور

'' اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر… کے سوا کسی پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں۔''

آپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ خلوت اختیار کریں یا اسے تنہا مدرسے یا لائبریری میں لے جائیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

(( لا یخلون رجل بامرأة إلا ومعہا ذومحرم ، ولاتسافر المرأة إلا مع ذی محرم ) ) ( صحیح مسلم )

'' کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ محرم کے بغیر خلوت اختیار نہ کرے۔''

(( لایخلون أحدکم بامرأة فإن الشیطان ثالثہما ) ) ( جامع الترمذی)

'' اور جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرتا ہے تو ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔''

لہٰذا جب آپ ان میں سے کسی کو مدرسے وغیرہ چھوڑنے جائیں تو ضروری ہے کہ ساتھ کوئی تیسرا بھی ہوتا ہے کہ خلوت زائل ہو جائے اور اس کی موجودگی میں شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص100

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت