فهرس الكتاب

الصفحة 1603 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میرے پاس شارع عام پر کچھ دکانیں ہیں۔ ان میں سے کچھ تو میں نے کرایہ پر دے دی ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔ چند دن ہوئے میرا ایک ہم وطن آیا جو مجھ سے ایک دکان کرایہ پر لینا چاہتا تھا تاکہ وہاں ویڈیو کی بیع کی دکان کھولے لیکن اس کو دکان کرایہ پر دینے میں مجھے کچھ تردد ہوا۔ کیا میرے لیے اپنی دکانوں کو کسی حرام چیز کی بیع کے لیے دینا جائز ہے اور کیا اس سے مجھ پر گناہ ہوگا؟ (صالح۔ م۔ الریاض)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اس شخص کو دکان وغیرہ کرایہ پر دینا جائز نہیں، جو حرام چیزوں کی بیع یا کسی حرام کام کے لیے کرایہ پر لینا چاہتا ہو۔ جیسے تمباکو اور حرام قسم کی فلمیں بیچنے، داڑھی مونڈھنے اور ایسی ہی دوسری غرض کے لیے لے رہا ہو۔ کیونکہ یہ گناہ اور سرکشی پر اعانت ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَیٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ... 2} ...المائدة

''اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں نہ کیا کرو ۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت