فهرس الكتاب

الصفحة 1786 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اپنے اخبار اہلحدیث مورخہ 20 مئی س 1932 میں سوال 146 کا جواب دیا ہے کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تاڑی اتارنے کےلئےدرخت کو کرایہ پر چھوڑنا جائز ہے اگر ایسا ہے تو وہ اصلی تاڑی ہوجاتی ہے جس کی خریدیوفروخت حرام ہے اور آپ برائے مہربانی اس جواب نمبر 146 کو بحوالہ قرآن و حدیث سمجھا دیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جہاں یہ مسئلہ لکھا ہے وہاں اس کی ساری تفصیل لکھی مطلب اس کا یہ ہے کہ تاڑی میں نشہ پیدائشی نہیں بلکہ بعد میں گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جب تک اس میں نشہ نہیں اس کا استعمال کرنا حرام نہیں۔

تعاقب۔ برفتوی ص 188 مندرجہ اہل حدیث 22 جولائی 1932 تعاقب نے نہ سوال نقل کیا نہ جواب محض تعاقب کی عبارت سے ناظرین کچھ سمجھ سکتے اس لئے سوال مع جواب مکرر نقل ہے پھر تعاقب درج ہوگا۔

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 205

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت