فهرس الكتاب

الصفحة 1692 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے بکر سے اس کے حصہ کی زمین رہن اس شرط پر لی ہے۔کہ جب زر اصلی اکبر ادا کردے تو اپنی زمین پر قبضہ کرلے۔زید اس مرہون زمین میں کاشت کرتا ہے۔اور مالگزاری سرکاری جو بکر ادا کرتا تھا۔وہ اب زید اپنے پاس سے ادا کرتا ہے۔اور جو زمین آسامیو ں کے قبضے میں ہے۔ان سے مالگزاری وصول کر کے۔سرکاری لگان ادا کرکے بقیہ اپنے تحت وتصرف میں لاتا ہے۔کوئی مقررہ منافع نہیں ہے۔زید کوکبھی فائدہ ہوتاہے کبھی نقصان ۔لہذا سوال یہ ہے کہ اس طرح زمین رہن لینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جواب۔صورت مرقومہ سود ہے۔

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ نمبر 440)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 99

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت