فهرس الكتاب

الصفحة 506 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ذرائع ابلاغ سے وابستہ مسلمان آدمیوں کو بعض ایسی محفلوں اور ڈراموں میں بھی جانا پڑتا ہے جہاں موسیقی اور بعض بڑے تکلیف دہ مناظر ہوتے ہیں اور معاشرے کے لیے ان کا نقصان دہ ہونا واضح ہوتا ہے 'تو کیا اس سے گناہ ہوگا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر ایسی محفل میں شرکت سےمقصود مصلحت عامہ ہو لطف اندوز ہونا مقصو د نہ ہو اور حاضری سے مقصود شر سے بچنا ہو اور وہ اس قابل مذمت معمہ یا معاشرے میں اس لیے داخل ہو تاکہ شر کو پہچانے اور اس کے عیوب کو واضح لرے اور اس کا مقصد نیک ہو تو کوئی حرج نہیں۔اور اگر وہ ان محفلوں میں لطف اندوزی یا برے مقاصد کے لیے جائے تو پھر جائز نہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَإِذا رَ‌أَیتَ الَّذینَ یَخوضونَ فی ءایـٰتِنا فَأَعرِ‌ض عَنہُم حَتّیٰ یَخوضوا فی حَدیثٍ غَیرِ‌ہِ ۚ...68} ... سورةالانعام

"اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کررہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔"

اور نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

(من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلا یجلس علی مائدة یدار علیہم الخمر) (جامع الترمذی 'الادب 'باب ماجاء فی دخول الحمام' ح:28-1)

"جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسے دسترکوان پر نہ بیٹھے 'جس پر بیٹھنے والوں کو شراب پیش کی جارہی ہو"

اللہ تعالیٰ نے بیہودہ بکواس کرنے والو اور انہیں منع نہ کرنے والوں کو بھی انہی کی طرح قرار دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص391

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت