فهرس الكتاب

الصفحة 2019 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک بینک نے طلبہ فنڈز کے ذمہ داروں کے سامنے یہ پیشکش کی ہے کہ اگر وہ ان فنڈز کو بینک کے پاس رکھیں توبینک نہ صرف یہ کہ ان کی حفاظت کرے گا بلکہ بینک اس فنڈمیں مددبھی دے گاتوکیا یہ جائزہے کہ ہم اس فنڈکی رقوم کو بینک میں محض حفاظت کے لئے رکھ دیں؟بلاشبہ بینک ضروران رقوم کو اپنے کام میں لائے گااوران سے سرمایہ کاری کرے گا۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ کام جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو عین سود ہے حقیقت یہ ہے کہ بینک طلبہ فنڈ کو ان رقوم کے عوض ایک طے شدہ سوداداکرے گااگرچہ بینک نے تلبیس،دھوکے اورپردہ پوشی سے کام لیتے ہوئے سودکا نام مددرکھ لیا ہے اورسودسودہے،خواہ لوگ اس کا کوئی بھی نام رکھ لیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص321

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت