فهرس الكتاب

الصفحة 1697 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

دوبارہ خرید فروخت یعنی ایک وقت میں دو بیع کرنا نقد پر بیشی کےساتھ اور ادھار پر مکئی کے ساتھ دینا اس طرح کی خریدو فروخت درست ہے یا نہیں اس کا جواب میں آپ کے ہاں سے فتوی آیا کہ نقد پر کم قیمت لینا اور ادھار پر زیادہ قیمت لینا درست ہے یہ مسئلہ ترمذی اور نیل الاوطار میں ملتا ہے۔اور اسی طرح کا فتوی اخبار اہل حدیث قبل رمضان سن 323ھ میں دیکھا گیا ہے۔مگر اس کے ثبوت میں کچھ شک پڑتا ہے۔کیونکہ ترمذی میں کوئی دلیل کافی نہ پائی اور نیل الاوطار یہاں موجود نہیں مگر برعکس اس کے ملتا ہے۔یعنی تلخیص الصاح باب البیوع جلد اول ص 142 مترجم مطبوعہ صدیقی لاہور۔کہ ایک وقت میں دو بیع کرنا درست نہیں ہے اور کیونکہ ادھار پر زیادہ قیمت لیتا رہا ہوگا۔اس واسطے مقرر عرض ہے۔کہ اس مسئلے میں قرآن حدیث سے جواب ملنا چاہیے۔ کسی کے رائے اور اجتہاد ضروری نہیں۔ (عبد المجید اہل حدیث از دھورہ ٹانڈہ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حدیث شریف میں آیا ہے۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔اس حدیث کی تشریح میں اقوال مختلف 1ہیں۔ جس صاحب کو جو قول پسند 2ہوتا ہے۔ اس پر وہ نتائج مرتب کر دیتا ہے۔نیل الاوطار میں ایک قول یوں بھی موجود ہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ نقد پر سوروپیہ اورادھار پر دو سو روپیہ لوں گا۔خریدار کہے میں نے نقد کی صورت یا ادھار کی صورت قبول کی تو جائز ہے۔ (جلد نمبر5ص12) ترمذی میں بھی مرقوم ہے۔کہ صورت مرقومہ میں خرید جب ایک صورت کو اختیار کرے تو جائز ہے۔

(باب النہی عن بیعتین فی بیعة3)

غرض صورت مرقومہ کےمنع پر کوئی آیت یا حدیث صاف دلالت نہیں کرتی۔اس لئے جائز معلوم ہوتا ہے۔ (25 فروری سن 1912ء)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 102

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت