فهرس الكتاب

الصفحة 318 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بوجہ غلبہ شہوت اپنی لڑکی سے زنا کر بیٹھا بلکہ متعدد بار کیا بعد توبہ کی اور غلبہ خوف کی وجہ رویا بھی اور متعدد بار رویا جب بھی اسے یوم آخرت کا نقشہ یاد آتا ہے۔ کافی حد تک اس کی طبیعت پریشان ہوتی ہے۔ بایں صورت کیا اس کی بیوی اس کے لیے حلال ہے اور ازدواجی تعلقات جو اب تک اپنی بیوی سے رکھے ہوئے ہے حلال وجائز ہے یا نہیں ہے جبکہ اس نے عقد ثانی کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ناکام رہا براہ کرم صورت مسئولہ کا حکم قرآن وحدیث سے مدلل ومفصل ارشاد فرمائیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

آپ جانتے ہیں کہ محصن زانی کی حد وسزا اسلام میں رجم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو رسول اللہﷺنے ابوبردہ بن نیاز﷜کو اس کا سرقلم کرنے کے لیے روانہ فرما دیا۔ (ابوداؤد'المجلد الثانی۔کتاب الحدود باب الرجل یزنی بحریمہ)

غور فرمائیں محرمات کے ساتھ صرف نکاح کی سزا سر قلم کرنا ہے تو ان کے ساتھ زنا کی سزا اس سے کم تو نہیں ہو سکتی ہے پھر زنا بھی متعدد بار اور توبہ کا بھی یہ حال کہ اس کے بعد بھی پہلے کی سی چال اگر وہ اپنے جرم کی اسلامی سزا بذریعہ عدالت اپنے پر لاگو کروا لے تو پھر آپ کا سوال وارد نہیں ہوتا کیونکہ جب وہ خود ہی رجم قتل کر دیا گیا تو اس کے اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات والا مسئلہ کافور ہو گیا۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 322

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت