فهرس الكتاب

الصفحة 716 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا ٹیلی ویژن دیکھنا جائز ہے اگر جائز نہیں تو وجوہات بیان کریں اور کیا تصویر بنوانا بنانا جائز ہے شوق سے بنائی جائے یا مجبوری سے اگر ناجائز ہے تو اس کی وجہ بیان کریں اس وقت لوگ مورتی اور بت بنا کر پوجا کرتے تھے جبکہ ہم کلمہ گو ہیں ہم تصویروں کی پوجا نہیں کرتے ۔ عبدالحنان ایم اے بی ایڈ خانیوال

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

تصویر بنانا اور بنوانا ناجائز ہے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ''تصویروں والوں کو قیامت کے روز عذاب ہو گا '' ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے تصویروں والا کپڑا لگایا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل نہیں ہوئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تصالیب وتصاویر دیکھتے تو انہیں توڑ ڈالتے تھے زمانہ قدیم میں مورتیاں بنائی جاتی تھیں اور کپڑوں اور دیواروں پر بھی تصوریں بنائی جاتی تھیں دونوں ہی ناجائز ہیں ترمذی وغیرہ میں ان کی اصلاح کی صورت آئی ہے کہ ان کا سر اور چہرہ کاٹ کر ختم کر دیا جائے تصویر عکس اور بت دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ ٹیلی ویژن میں بھی تصویر ناجائز ہے ہاں غیر ذی روح مثلًا مسجد ، درخت کی تصویر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ صحیح بخاری کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث میں مذکور ہے ۔ ۷/۷/۱۴۲۰ہـ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 ص 514

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت