فهرس الكتاب

الصفحة 1826 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیابینکوں خصوصاالبنک العربی کےملازمین کی تنخواہ حلال ہےیاحرام؟میں نےسناہےکہ بینکوں کی تنخواہ حرام ہےکیونکہ بینک اپنےطعض معاملات میں سودی کاروبارکرتےہیں،میں ایک بینک میں ملازمت کرنےکاارادہ رکھتاہوں،اس لئےامیدہےکہ آپ مستفیدفرمائیں گے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جوبینک سودی کاروبارکرتےہوں،ان میں ملازمت کرناجائزنہیں ہےکیونکہ یہ بھی گناہ اورظلم کےکاموں میں تعاون ہےاوراللہ تعالیٰ نےفرمایاہےکہ:

{وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَیٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} (المائدۃ۲/۵)

''نیکی اورپرہیزگاری کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددکیاکرواورگناہ اورزیادتی کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددمت کرو۔''

اورصحیح حدیث میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےسودکھانے،کھلانے،اس کےلکھنےوالےاوردونوں گواہوں پرلعنت فرمائی اورفرمایاکہ وہ سب (گناہ میں) برابرہیں (صحیح مسلم)

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 316

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت