فهرس الكتاب

الصفحة 1160 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کھجو ر کا کھٹا رس اور تاڑ کامیٹھا رس جسے پینے سے آدمی مدہوش ہو جاتا ہے اور بھلا ، برا تمیز نہیں رہتا اس کو خمر کہا جائے گا اور اس کا پینا حرام ہے یا نہیں، بصورت حرام اس کا پینے والا بیچنے والا رس نکالنے والا اور رس نکالنے کے لئے درخت اجارہ پر دینے والے کا گناہ برابر ہے یا مختلف اور شریعت میں ان کے حدود کیا ہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

تاڑ کے رس میں صبح کے وقت نشہ نہیں ہوتا اس لئے پینا جائز ہے جس وقت نشہ آور ہو جاوے تو بحکم کل مسکراحرام اس کا پینا جائز ہے تاڑ کے درخت کی مطلق بیع جائز ہے کیونکہ ہذاۃ مسکر نہیں ، (اہلحدیث امرتسر ۱۲جنوری ۱۹۲۰ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 432

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت