فهرس الكتاب

الصفحة 1524 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ہمارے یہاں ایک مدرسہ ہے،جس میں غیرحاضری کرنے پر بچوں سے کچھ رقم جرمانے کے طور پر لی جاتی ہے، کیا یہ جا ئز ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مالی جرمانے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے ۔لیکن شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم مصلحت کے تحت تعزیرا مالی جرمانہ ڈالنے کے قائل ہیں۔اگر مالی جرمانے سے طلباء میں حاضری کی یکسوئی پیدا ہوتی ہو اور نظام حاضری بہتر ہوتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔قاتل کو میراث سے محروم کرنا اور مسجد ضرار کو منہدم کروانا مالی جرمانےکی ہی شکلیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت