فهرس الكتاب

الصفحة 1864 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک بینک نے سٹوڈنٹس فنڈر کے ذمہ داروں کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ ان فنڈز کی حفاظت اور ان میں تعاون کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ ان فنڈز کو اپنے کاروبار میں استعمال کرے گا، تو کیا ان فنڈز کو بینک میں جمع کرانا جائز ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ کام جائز نہیں ہے کیونکہ یہ عین ربا ہے، اس لیے کہ بینک ان فنڈز کو استعمال کرے گا اور ان پر طے شدہ سود ادا کرے گا۔ بینک نے دجل و تلبیس، دھوکا اور سود پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کا نام تعاون رکھا ہے اور سود تو بہرحال سود ہے خواہ لوگ اس کا کوئی بھی نام رکھ لیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص517

فتوی کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت