فهرس الكتاب

الصفحة 1112 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

دو اشخاص اس طرح شراکت میں کام کرتے ہیں کہ ایک شخص کا محض روپیہ ہے دوسرا صرف کاروبار کی دیکھ بھال،خرید و فروخت کر تاہے،نفع نقصان کا حصہ اسی طرح مقرر ہے ،فریق اول کا دو تہائی یا نصف مقرر ہے، علی ہذا القیاس دوسرے کا ایک تہائی یا نصف ہے ،اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا کا روبا ر ہر دو فریق کو جائز ہے یا نا جائز ؟ اگر نا جائز ہے ،تو کس فریق کو آیا فریق اول کو یا دوم کو ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بلا اتفاق جائز ہے ، (اہلحدیث امرتسر ۱۵اگست ۱۹۳۰؁ء)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 392

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت