فهرس الكتاب

الصفحة 1668 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک شخص نے ایک مکان ناجائز روپے سے تعمیر کروایا۔اب جس شخص کو یہ علم ہو کہ یہ مکان ناجائز روپے سے تعمیر کیاگیا ہے۔اس کو اس مکان میں کرایہ دے کر رہنا اور اس میں نماز پڑھناجائز ہے کہ نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مالک مکان متکلف ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ کرایہ دار بالعوض رہے۔تو اس کوجائز ہے مالک گنہگار ہے۔ یہ مضمون ہل ترک لنا عقیل شیئا

سے ماخوذہے۔واللہ اعلم ۔ (فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 441۔442)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 89

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت