فهرس الكتاب

الصفحة 1085 من 6346

اسکا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر تو ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا، اس لیے کہ ہم سب کو مر کر اسی کے پاس جانا ہے، اس کے عذاب سے کون بچ سکتا ہے، فرعون کو عذاب دنیا کے مقابلے میں عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے، دوسر ا مفہوم کہ موت تو ہمیں آنی ہی ہے ہمارے نزدیک دنیا کی سزائیں بھگت لیناآخرت کے عذاب بھگتنے سے زیادہ آسان ہے ۔اور اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ موت سولی پر آئے یا کسی اور طریقے سے آئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت