فهرس الكتاب

الصفحة 5153 من 6346

مسئلہ تقدیر کی مصلحت:

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں یہ خبر اس لیے دی کہ تم یقین رکھو کہ تمہیں جو پہنچا وہ کسی صورت ہرگز ٹلنے والا نہ تھا پس مصیبت کے وقت ضبط وصبر، شکر، ثابت قدمی، مضبوط دلی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے۔ اور اگر نقصان ہو جائے تو اس کا غم نہ کرنا چاہیے۔ اور جب کوئی بھلائی پہنچے تب بھی تمہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ تمہار حسن تدبیر یا تمہارے فعل کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ نے اسے تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہے۔ لہٰذا تمہیں اس پر اترانے، پھولنے اور شیخیاں بگھارنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے تئیں بڑا سمجھنے والے، دوسروں پر فخر کرنے والے خدا کے دشمن ہیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ رنج وراحت، خوشی وغم تو ہر شخص پر آتا ہے، خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو۔ (تفسیر طبری: ۲۳/ ۱۹۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت