یعنی جو اپنے کفر و باطل میں مصروف اور حق کی تکذیب و استہزا میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے خدا کا عذاب، فرشتوں کی مار اور جہنم کی آگ ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشا سمجھ رکھا تھا۔ اس دن انھیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔