فهرس الكتاب

الصفحة 237 من 6346

اس آیت میں اس معاشرتی برائی کا سدباب کیا گیا ہے کہ مرد کے لیے صرف دوبار طلاق دینے اور اس کے رجوع کرنے کا حق رہنے دیا گیا ۔ طلاق دینے کا یہ مسنون اور سب سے بہتر طریقہ ہے دومرتبہ طلاق دینے کے بعد رجوع ہوسکتا ہے مگر تیسری طلاق کے بعد رجوع کی اجازت نہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں حق طلاق و رجوع غیر محدود تھا جس سے عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا تھا۔ آدمی بار بار طلاق دے کر اس سے رجوع کرلیتا تھا۔ اس طرح نہ اسے بساتا تھا نہ آزاد کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم کا راستہ بند کردیا۔ اور پہلی اور دوسری مرتبہ سوچنے اور غور کرنے کی سہولت سے محروم بھی نہیں کیا۔

الطلاق مرتین: یعنی دو طلاقیں نہیں فرمایا بلکہ طلاق دو مرتبہ فرمایا جس سے اس بات کی طرف اشارہ فرمادیا کہ بیک وقت دو یا تین طلاقیں دینا اور انھیں بیک وقت نافذ کردینا حکمت الہیہ کے خلاف ہے۔

خلع کا حق: یعنی اگر کوئی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہیے تو اس صورت میں خاوند اپنا دیا ہو مہر واپس لے سکتا ہے۔ علاوہ ازیں عورت اگر اپنی جان چھڑوانا چاہتی ہے تو وہ کچھ دے دلا کر تنسیخ نکاح کرسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو یہ حق دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی سخت تاکیدکی ہے کہ عورت بغیر کسی معقول وجہ کے خاوند سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بلا عذر اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے گی وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گی۔ (ترمذی: ۱۱۸۷۔ مستدرك حاكم: ۲/ ۲۰۰، ح: ۲۸۰۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت