فهرس الكتاب

الصفحة 2559 من 6346

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا بتوں کو توڑنا:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل میں عزم کیا، بعض کہتے ہیں کہ آہستہ سے کہا جس کا مقصد بعض لوگوں کو سنانا تھا (وَاللّٰہُ اَعْلَمُ) ان کی عید کا جو دن مقرر تھا۔ جب سب لوگ جانے لگے تو پہلے اپنے بتوں کے سامنے نذر و نیاز کی مٹھائیاں رکھیں اور ابراہیم علیہ السلام کو بھی میلہ میں شمولیت کی دعوت دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہہ دیا کہ میں تو بیمار ہوں لہٰذا مجھے اپنے ساتھ لے جا کر اپنا مزا خراب نہ کرو اور مجھے یہیں رہنے دو۔

جب یہ سب لوگ چلے گئے توحضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے یہ سنہری موقع تھا آپ نے اس موقعہ کو غنیمت جان کر انھیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ صرف ایک بڑا بت چھوڑ دیا، اور کلہاڑا اس کے کندے پر رکھ دیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ سب کارستانی اس بڑے بت کی ہے۔ (لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ) تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت